نیک اور بد Tuesday 16 June 2009
اس تحریر کو موضوع اردو اثر پارے کے تحت شائع کیا گیا۔ | 2 تبصرے »
ہمارے مشاہدے میں ہے کہ زمیں نے نیکوں اور بدوں دونوں کو سنبھال رکھا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سورج کی گرمی اور دھوپ دنوں کو مساوی پہنچتی ہے۔۔۔۔ فرحت بخش ہوا بھی دونوں میں امتیاز نہیں کرتی۔۔۔ اور بارش اپنی نفع سے دونوں کو بہرہ ور کرتی ہے۔۔۔ مگر مساوات اسی دنیا تک محدود ہے۔۔۔۔۔۔ عاقبت میں دونوں الگ الگ کر دئے جائیں گے۔۔۔ اور راست باز کو اقلیم نور میں رکھا جائے گا۔۔۔۔ ان کی شادمانی کو کبھی زوال لاحق نہ ہوگا۔۔۔ ان کی مُسرت غیر فانی ہوگی۔۔ بدکار دوزخ میں بھیج دیئے جائیں گے۔۔۔جسکا گڑھا نہایت گہرا اور بیحد تاریک ہے۔۔۔ جہاں دُکھ درد کے سوا کوئی چیز میسر نہیں آسکتی۔۔۔۔۔۔
(اسلامی کتاب سے اقتباس)
اس تحریر کو موضوع اسلام کے تحت شائع کیا گیا۔ | تبصرہ کریں »
الھم صل علی محمد صلی اللہ علیہ وسلم وآل محمد صلی اللہ علیہ وسلم
حضرت عمر ابن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کو جب خلافت ملی تو لوگ دُور دُور سے مبارکباد دینے کے لئے دربارِ خلافت میں حاضر ہوئے۔۔۔دربار اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ قائم تھا۔۔۔۔امیرالمومنین تختِ خلافت پر متمکن تھے۔۔۔امراء صف در صف اپنے اپنے مرتبوں کے مطابق مرصع کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔۔مختلف قبیلوں سے معمر سردار یکے بعد دیگر سے مبارکباد عرض کرنے کے لئے دربار میں حاضر ہورہے تھے۔۔۔۔کہ ایک بے ریش و بروت نو عمر حجازی لڑکا اپنے قبیلہ کی طرف مبارکباد عرض کرنے کے لئے آگے بڑھا۔۔خلیفہ نے کہا اے لڑکے! کسی اپنے سے بڑی عمر والے سردار کو گفتگو کے لئے پیش کر۔۔۔۔۔
لڑکے نے جواب دیا۔۔۔اے امیرالمومنین جب خدا اپنے بندے کو اس کو یاد کرنے والا دل اور بولنے والی زبان عطا کردے تو وہ گُفتگو کا مستحق ہے۔۔۔اور اے امیرالمومنین اگر فضیلت عمر کے لحاظ سے ہوتی تو اس وقت اُمت میں جو آپ سے بڑی عمر والے ہیں وہ تخت پر بیٹھے ہوتے۔۔۔۔
امیرالمومنین لڑکے کی معقول گفتگو سے مرعوب ہو گئے۔۔۔اور اُنہوں نے کہا اے لڑکے تو کیا کہنا چاہتا ہے؟
لڑکے نے ادب کے ساتھ جواب دیا۔۔۔حضور والا ہم مبارکباد عرض کرنے آئے ہیں۔۔۔خدا نے آپ جیسا عادل خلیفہ مقرر کر کے ہم پر بڑا احسان کیا ہے۔۔۔
امیر المومنین نے آنکھوں میں بھرے ہوئے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔۔۔اے لڑکے مجھے کچھ نصیحت کر۔۔۔
لڑکے نے جراءت کے ساتھ جواب دیا۔۔بہت سے ایسے بادشاہ گزرے ہیں جو خدا کے حلم پر مغرور ہو گئے۔۔۔اور نہ سمجھے کہ خدا کی لاٹھی میں آواز نہیں ہوتی۔۔۔خوشامدی مصاحبوں نے ان کو رعایا کے حالات سے غافل کر کے نفس پروری میں پھنسا دیا۔۔بیشک ایسے لوگ جلتی ہوئی آگ کا ایندھن ہیں۔۔۔اے امیرالمومنین ہماری دعا ہے کہ آپ ایسے لوگوں میں شامل نہ ہوں۔۔۔اور آپ کا حشر اُمت کے نیک لوگوں کے ساتھ ہو۔۔۔
حضرت عمر ابن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ لڑکے کی فصاحت، حکمت اور جراءت سے بہت متعجب ہوئے۔۔۔۔آپ نے اس کی عمر اور حسب و نسب پوچھا۔۔۔تو معلوم ہوا کہ۔۔وہ خاندان نبوت کا ایک گُلِ نو دمیدہ ہے۔۔۔اور اس نے ابھی اپنی عمر کی محض دس بہاریں دیکھی ہیں۔۔۔۔
سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم
الھم صل علی محمد صلی اللہ علیہ وسلم وآل محمد صلی اللہ علیہ وسلم
اشعار Sunday 14 June 2009
اس تحریر کو موضوع اردو شاعری کے تحت شائع کیا گیا۔ | تبصرہ کریں »
شام بھی تھی دھواں دھواں، حُسن بھی تھا اُداس اُداس
دل کو کئی کہانیاں یاد سی آکے رہ گئیں
(فراق گورکھپوری)
میری چُپ رہنے کی عادت جس کارن بدنام ہوئی
اب وہ حکایت عام ہوئی ہے سُنتا جا شرماتا جا
(حفیظ جالندھری)
ہے غارتِ چمن میںیقیناََ کسی کا ہاتھ
شاخوں پہ انگلیوں کے نشاں دیکھتا ہوں میں
(سیماب اکبر آبادی)
اس تحریر کو موضوع اردو اثر پارے کے تحت شائع کیا گیا۔ | 2 تبصرے »
- شیریں کلامی، خوش اخلاقی دو ایسی چیزیں ہیں کہ انسان ان کی بدولت دنیا میں جنت کے مزے لے سکتا ہے۔۔
- مال و دولت کا فقدان مفلسی نہیں، حقیقی مفلسی جوش، ہمت اور اُمنگ کا نہ ہونا ہے۔۔
- بہتر کام وہی ہے جو خدا کی خوشنودی کے لئے کیا جائے۔۔
- اے بندے! ہر وقت خدا کی ذات پر بھروسہ رکھو! اپنی عقل و فراست پر نازاں نہ ہو۔۔
- جنت کا راستہ اِسی دنیا میں سے ہو کر گزرتا ہے۔ اگر اللہ کی خوشنودی مدنظر رکھتے ہوئے دنیا میں نیک عمل کئے تو جنت میں پہنچ جانا ۔۔۔اسکی رحمت سے بعید نہیں۔۔
- تم یہ کہنے کے مستحق نہیں کہ “میرا مکان بہشت ہے تاوقتیکہ اپنے مکان کو بہشت بنانے کی کوشش نہ کرو”۔۔دوسرے الفاظ میں یہ کہ “میں بہشت میں جاؤنگا۔۔” تاوقتیکہ بہشت میں جانے کے کام نہ کئے جائیں۔۔
- اگر دُنیا میں رہنا ہے تو علم و ہُنر سیکھو۔۔
(انگریزی کتاب سے اقتباسات)
عورت Saturday 13 June 2009
اس تحریر کو موضوع اردو نثر پارے کے تحت شائع کیا گیا۔ | 4 تبصرے »
عورت رنج میں ساتھ دیتی ہے۔۔۔اور راحت کو دوبالا کر دیتی ہے۔۔۔باعصمت عورت عموماََ مغرور اور شوخ ہوتی ہے۔۔۔۔کیونکہ اسے اپنی عصمت پر ناز ہوتا ہے۔۔۔۔عورت مرد کے لئے بیش بہا نعمت اور خدائی برکت ہے۔۔۔۔۔عورت نہایت بے تکلفی کے ساتھ شوہر سے ان مشکلات کا شکوہ کرتی ہے جو اسے گھر میں پیش آتی ہے۔۔۔۔لیکن اگر اُسے عیش و آرام میسر ہو تو شاذو نادر ہی اس کا ذکر کرتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
عورت کمزور اور بزدل مرد کی پرواہ نہیں کرتی۔۔۔۔اس کا عقیدہ ہے کہ مچھلیاں صرف مضبوط جال سے ہی پکڑی جاتی ہیں۔۔۔۔عورت کی کتاب دُنیا ہے ۔۔وہ کتابوں سے اس قدر نہیں سیکھتی جس قدر دُنیا کے مشاہدے سے۔۔۔۔۔
(کالیداس)
اس تحریر کو موضوع اردو شاعری کے تحت شائع کیا گیا۔ | تبصرہ کریں »
چھپائی ہیں جس نے میری آنکھیں، میں انگلیاں اُس کی جانتا ہوں
مگر غلط نام لے کے دانستہ لطف اندوز ہو رہا ہوں
فریبِ تخیل سے میں ایسے ہزار نقشے جما چکا ہوں
حقیقتاََ میرا سر ہے زانو پہ تیرے یا خواب دیکھتا ہوں
پیام آیا ہے تم مکاں سے کہیں نہ جانا میں آرہا ہوں
میں اس عنایت کو سوچتا ہوں خدا کی قدرت کو دیکھتا ہوں
ہر ایک کہتا ہے اُوس میں سو کے اپنی حالت خراب کر لی
کسی کو اس کی خبر نہیں ہے کہ رات بھر جاگتا رہا ہوں
حسین ہوتم، آپ کی بلا سے، پری ہو تم، آپ کی دُعا سے
جواب ملتا ہے سخت لہجے میں اُن سے جو بات پوچھتا ہوں
ہلال اور بدر کے تقابل نے محوِ حیرت بنا دیا ہے
وہ عید کا چاند دیکھتے ہیں میں اُن کی صورت کو دیکھتا ہوں
شراب ساقی صراحی میخانہ قابل قدر ہوں، مجھے کیا
کسی کی آنکھوں کے سرخ ڈوروں سے پی کے مخمور ہو رہا ہوں
میںکیا کہوں گا، وہ کیا سنیںگے، وہ کیا کہیںگے، میں کیا سنوںگا
اسی تذبذب میں شاد میں اُن کے در پہ ڈر ڈر کے جا رہا ہوں
(شاد عارفی)
اس تحریر کو موضوع اردو شاعری کے تحت شائع کیا گیا۔ | 2 تبصرے »
بات کرتے ہی یہ کہہ اُٹھتے ہو منشا کیا ہے؟
بات کرنے کا تمہارے یہ طریقہ کیا ہے؟
ضد پر آجاؤں تو جی بھر کے ستا کر چھوڑوں
تو نے اے چھیڑنے والے مجھے سمجھا کیا ہے؟
اس نے عرضِ تمنا کی اجازت دے دی
میں ہوں اس سوچ میں یارب کہ تمنا کیا ہے؟
درد تو بخش دیا خیر کوئی بات نہیں
اب ذرا یہ تو کہو اس کا مداوا کیا ہے؟
تم سے کرتا ہے شکایت جو کوئی کرنے دو
اس میں سچ پوچھو تو نقصان تمہارا کیا ہے؟
ایک اظہارِ محبت پہ یہ غصہ؟ توبہ!
جانے بھی دیجئے ان باتوں میں رکھا کیا ہے
میں کبھی یہ نہ کہونگا کہ کرم کیجئے آپ
آپ خود سوچئے الفت کا تقاضہ کیا ہے
رنج اٹھاتے ہیں ستم سہتے ہیں چُپ رہتے ہیں
جانتے ہیں کہ شکایات سے ہوتا کیا ہے
رنج دن رات کا دیکھا نہیں جاتا اختر
نہیں معلوم کہ اس عشق میں ہونا کیا ہے
(اختر بریلوی)
اس تحریر کو موضوع اردو شاعری کے تحت شائع کیا گیا۔ | 2 تبصرے »
مُجھے کچھ شکائتیں ہیں، پتہ نہیں کس سے، میں آج کچھ لکھ رہا ہوں، معلوم نہیں کیا، کیوں۔؟
پہلے جب دل رکھ ہی لیا تھا آپ نے پھر دل کیوں توڑا؟
پہلے جب کچھ آس دلائی، آپ نے پھر منہ کیوں موڑا؟
مجھ کو آپ سے شکوہ ہے
مجھ کو آپ سے شکوہ ہے۔
میں نے آپ کو خط بھیجا تھا
آپ نے بھی زحمت کی تھی
میں نے بھی اپنا سمجھا تھا
آپ نے بھی اُلفت کی تھی
آپ کا رنگیں خط آیا تھا
میں نے بھی جراءت کی تھی
آپ نے میرا دل رکھا تھا
میں نے بھی حسرت کی تھی
اب جب میرا دل مضطر ہے ۔۔یہ مدہوشی کیا معنی؟
اب میرے ہر خط کے بدلے ۔۔یہ خاموشی کیا معنی؟
مجھ کو آپ سے شکوہ ہے
مجھ کو آپ سے شکوہ ہے
جُون کی رومانی راتوں میں
رنگیں نظمیں کہتا تھا
یعنی اپنی ہی باتوں میں
کچھ کھویا سا رہتا تھا
ہاں، یاد آیا، آپ کو میںنے اپنا نغمہ بھیجا تھا
آپ نے کچھ دن بعد اُسی کو اپنی دھن میںگایا تھا
“جب بھی دیکھو، کھوئے کھوئے پژمردہ سے رہتے ہو”
آپ نے پوچھا تھا، ” پھر کیسے ایسی نظمیںکہتے ہو؟”
کچھ دن پہلے آپ مرے نغمات سے کھیلا کرتے تھے
بھولے سے اک شاعر کے جذبات سے کھیلا کرتے تھے
اب جب میں نے دُکھ میں رنگیں نظمیں کہنا چھوڑ دیا
بیکس کا دل رکھنا کیسا، آپ نے بھی دل توڑ دیا۔۔
مجھ کو آپ سے شکوہ ہے
مجھ کو آپ سے شکوہ ہے
میں بھی ایک دولت والا ہوں
آپ نے شاید سمجھا تھا
میں بھی نازوں کا پالا ہوں
آپ کو شاید دھوکا تھا
اچھی صحبت ہے، شاعر ہوں اور افسانے لکھتا ہوں
بیس برس کا ایک جواں ہوں شوخ طبیعت رکھتا ہوں
آپ نے یہ سب سمجھامجھ کو اور مجھے مانوس کیا
اب جب میری حالت دیکھی دل توڑا مایوس کیا
مجھ کو آپ سے شکوہ ہے
مجھ کو آپ سے شکوہ ہے
دولت، ثروت، عزت سے تو الفت کو کچھ کام نہیں
اُلفت کی افسردہ راتیں شادی کے ایام نہیں
آپ کو دولت سے الفت ہے
میں اس سے آگاہ نہیں
آپ کو غربت سے نفرت ہے
خیر، مجھے پرواہ نہیں
آپ یونہی سرگرمِ خوشی ہوں اور طبیعت شاد رہے
اچھا اب خاموش ہوں، چُپ ہوں لیکن اتنا یاد رہے
مجھ کو آپ سے شکوہ ہے
مجھ کو آپ سے شکوہ ہے
(سلام مچھلی شہری – لکھنؤ)
بات Saturday 6 June 2009
اس تحریر کو موضوع اردو شاعری کے تحت شائع کیا گیا۔ | 6 تبصرے »
میں نے کہا،
“پیاری !
اب وقت آگیا ہے
کہ میں تمہاری امی کے ساتھ بات کروں۔۔۔”
لیکن وہ رو کر کہنے لگی
“نہیں ! میری امی تو کہتی ہیں
مرد دھوکا دیتے ہیں”
میں جانتی ہوں وہ کبھی نہیں مانیں گی
وہ کہتی ہیں
“جو لڑکیاں بیاہ میں جلد بازی کرتی ہیں
عمر بھر کفِ افسوس ملتی رہتی ہیں”
میں نے کہا،
“پیاری!
تو پھر میں تمہارے ابو سے بات کروں”
لیکن وہ رو کر کہنے لگی
“نہیں، میرے ابو تو مجھ سے اتنی محبت کرتے ہیں
کہ وہ میرے جانے پر
کبھی رضا مند نہیں ہونگے”
اگر میرے ابو کے ساتھ بات کرو گے
تو وہ ضرور انکار کردیںگے
میں نے کہا
” تو پیاری!
میں پھر کس طرح اپنے لعل کو پا سکتا ہوں؟
اگر تمہاری امی
اور تمہارے ابو
اتنے ظالم ہیں
تو میں تو ضرور مر جاؤنگا۔۔۔”
لیکن وہ کہنے لگی
“پیارے!
مرنے کا ذکر نہ کرو۔
مجھے تمہیں بچانے کا
ایک طریقہ نظر آگیا ہے۔۔۔
میرے ماں باپ مخالف ہیں تو کیا ہوا
تم بات میرے ہی ساتھ کر لو۔۔۔۔”
اس تحریر کو موضوع پاکستان کے تحت شائع کیا گیا۔ | تبصرہ کریں »
جہاں سونے سے تُلتی ہے محبت
جہاں ہے حُسن اک مالِ تجارت
جہاں معصومیت، دانش، شرافت
ہر اک شے مول لے سکتی ہے دولت
وہی ہے بس وہی شیطان کی بستی
وہاں خطرے میں ہے انسان کی ہستی
جہاں ہر کام کا مطلب ہے مطلب
گناہوں کا جہاں پردہ ہے مذہب
شوالے خانقاہیں اور مکتب
جہاں سب پیٹ پوجا کے ہیں کرتب
وہی ہے بس وہی شیطان کی بستی
وہاں خطرے میں ہے انسان کی ہستی
میرے مولا ہم سب کو انسان بنا دے۔۔آمین ثم آمین۔۔اور ہماری بستی کو انسانوں کی بستی بنا دے۔۔آمین ثم آمین۔۔۔ہمارے حالات پر رحم فرما۔۔۔۔ہم سب کو ہدایت عطا فرما۔۔۔اور ہمارے ملک پاکستان کو انسانوں کی بستی بنا دے میرے مولا۔۔ آمین
سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔۔ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم